خواتین کا عالمی دن: بلوچستان کی باصلاحیت خاتون اور پہلی سولین فلائٹ سرجن ڈاکٹر مصباح راٹھور سے ملاقات

ڈاکٹر مصباح راٹھورکا تعلق بلوچستان کے علاقے کولپور سے ہے۔ انہوں نے مڈل تک تعلیم بھی کولپور سے ہی حاصل کی ہے۔ جس کے بعد وہاں تعلیمی سہولیات کے فقدان کے باعث انہوں نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مشن گرلز ہائی سکول سے میٹرک اور بعد میں ڈگری گرلز کالج کینٹ سے ایف ایس سی اوربی ایس سی کی ڈگری حاصل کیں۔ 2007ء میں انہوںنے بولان میڈیکل کمپلیکس کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری لی۔ 2013ء میں پہلی پرائمری کورس ایئرس سپیس مسرور ایئربیس کراچی سے اور 2017ء میں ایئرس سپیس میڈیسن ایڈوانس ڈپلومہ اسلام آباد سے کیا ۔ محترمہ پاکستان کی واحد سولین خاتون سرجن ہے جنہیں پاکستان میں فلائٹ سرجن کا اعزاز حاصل ہے۔ اس سے پہلے یہ کورس صرف آرمی کے حاضر سروس آفیسرز ہی کیا کرتے تھے۔ لیکن بلوچستان کی اس باہمت ، زہین اور باصلاحیت خاتون اس مد پاکستان کی تاریخ لکھ دی۔ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کوئٹہ انڈکس کے ایڈمنسٹریٹر دین محمد وطن پال نے محترمہ سے ان کی سرگرمیوں اور بلوچستان میں ان خدمات کے حوالے سے بات چیت کی ہے جوکہ قارئین کی نظر ہے۔


انڈکس: کولپور کے بنیادی تعلیم سے پھر کوئٹہ میں اعلیٰ تک کیا مشکلات درپیش تھیں اور ایئر سپیس میڈیسن میں ایڈوانس ڈپلومہلینے کے بعد کیا محسوس کررہی ہو؟
مصباح: مجھے فخر ہے کہ ایک پسماندہ علاقے سے یہاں تک پہنچی ہوں ۔ کولپور کا نام میرے نام سے منسلک رہنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ کولپور ایک پسماندہ علاقہ وہاں پر اس وقت صرف مڈل تک تعلیم کی سہولت تھی۔ میں نے مشکل حالات میں کوئٹہ سے مڈل کے بعد تعلیم حاصل کیا۔ اس دوران مجھے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایئر سپیس میڈیس میں کورس کا حاصل کرنا والدین کی مدد سے ممکن ہوا۔ جنہوں نے ہر وقت مدد کی۔ میری تمام پر کامیابیوں میں بلوچستان حکومت خصوصا وزارت داخلہ کا کردار ہے اور میں ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ مجھے مکمل سکالرشپ دی۔ ایئر سپیس میڈیس کے کورس کیلئے داخلہ کے دوران کے دوران مشکلات درپیش تھی کیوں کہ اس سے پہلے کسی سولین کو یہ کورس نہیں کرایا گیا تھا۔ میں پہلی خاتون تھی جس نے اس کیلئے اپلائی کیا تھا۔ اس سلسلے میں وزارت داخلہ بلوچستان کو بار بار درخواستیں دیں کہ میں بلوچستان سے فلائٹ سرجن بننا چاہتی ہوں جس کے بعد وزارت داخلہ نے مجھے بہت سپورٹ کیا۔ مجھے خوشی ہے کہ میں بلوچستان اور یہاں کے لوگوں کیلئے کچھ کرسکوں۔

یہاں پر باقاعدہ انفراسٹرکچر موجود نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے کسی حادثے یا کسی قدرتی آفت میں لوگوں کو ریسکیو کرنے میں مشکلات درپیش ہوتی ہے۔ بلوچستان کو اس کام کی بہت ضرورت ہے۔ سرجن ڈاکٹر مصباح راٹھور کا کوئٹہ انڈکس کو انٹرویو (تصویر: کوئٹہ انڈکس/ دین محمد وطن پال)

انڈکس: اب تک بلوچستان میں جو کام کیا تو اس صوبے کو کیسے پایا ؟
مصباح : مجھے خوشی ہے کہ میرا تعلق بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے سے ہے۔ کیوں کہ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کی آبادی دور دراز علاقوں پر محیط ہے۔ جس کی وجہ سے یہاں پر کام کرنا بہت مشکل ہے۔ دور دراز علاقوں سے شہر تک کسی زخمی کو بائی روڈ لیجانا خطرے سے باہر نہیں ہے ۔ یہاں پر لوگوں کو ریسکیو کرنا انتہائی مشکل کام ہے ۔ یہاں پر باقاعدہ انفراسٹرکچر موجود نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے کسی حادثے یا کسی قدرتی آفت میں لوگوں کو ریسکیو کرنے میں مشکلات درپیش ہوتی ہے۔ بلوچستان کو اس کام کی بہت ضرورت ہے۔ یہاں انفراسٹرکچر موجود نہیں ہے۔ اور بلوچستان کی آبادی دور دراز پر پھیلی ہوئی ہے۔ مکران یا کیچ سے کسی کو ریسکیو کرنے میں 5سے 6گھنٹے لگتے ہیں۔ تو ایسی صورتحال میں اس کی جان کو خطرہ لاحق ہے ۔ کیوں کہ کسی روڈ ایکسیڈنٹ، دہشتگردی کے واقعے یا پھر کسی قدرتی آفت میں زخمی کو فوری مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اگر اسے کئی گھنٹوں بعد کسی مستند ادارے تک پہنچایا جائے تو خطرے سے خالی نہیں ہے۔ ایسے صورتحال میں بلوچستان کو نہ صرف ان لوگوں کو ریسکیو کرنے کی نہیں بلکہ ان کے علاج کے لیے اچھے ہسپتالوںکی بھی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں اچھے اور معیاری ہسپتالوں کے فقدان کے باعث تربت، مکران اور کیچ سے ہم جتنے بھی زخمیوں کو ریسکیو کرتے ہیں انہیں کراچی لے جاتے ہیں۔ خضدار، ڈیرہ بگٹی، سبی اور مستونگ کے زخمیوں کو کوئٹہ کے ہسپتالوں تک پہنچاتے ہیں۔

 

انڈکس: آپ یا آپ کی ٹیم کس طریقے سے کام کرتے ہیں کیاں آپ کا کام بھی ہسپتالوں میں موجود ڈاکٹروں یا پھر ریسکیو ٹیموں جیسا ہے اس سے مختلف ہے؟
مصباح: نہیں ہمارا کام ہسپتالوں میں موجود ڈاکٹروں اور ریسکیو ٹیموں سے بہت مختلف ہیں۔ عام طور پر ڈاکٹر گرئوانڈ پر کام کررہے ہوتے ہیں جنہیں تمام تر سہولیات دستیاب ہوتی ہیں اور ہم ایمرجنسی میں کام کررہے ہوتے ہیں ۔ ہمارے اور دوسرے ریسکیو ٹیموں کے کام میں بھی بہت فرق وہ کسی واقعے کے بعد زخمیوں کو صرف ہسپتال تک پہنچاتے ہیں جبکہ ہمارا موقع پر زخمیوں کو طبی امداد دینا ہوتا ہے۔ہم جب کسی زخمی کو اٹھاتے ہیں تو انہیں دوران ٹرانسپورٹ طبی امداد فراہم کرتے ہیں۔ فلائٹ کے دوران کسی زخمی کو طبی امداد دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ کیوں کہ ہوا میں مسائل بہت ہوتے ہیں۔ آکسیجن کی کمی ہوتی ہے۔ مجھے اپنے فلائٹ کو فٹ رکھنا ہوتا ہے۔ ہوا میں زندگی بچانا بہت مشکل کام ہے۔ مشن کو روان دواں رکھنا فلائٹ سرجن کا کام ہے۔کوئی بھی بڑا واقع وہاںپر فوری طور پر ریسپانس دیتے ہیں۔ ہمارا کوئی پلان نہیں ہوتا ہمیں فورا بلایا جاتا ہے۔ وہاں جاکر زخمیوں کو ابتدائی مدد دینا ہوتا ہے۔ کیوں کہ ہمارا کام ہی انسانی جانوں کی حفاظت کرنا ہے۔

 

انڈکس: اب تک کتنے مشنز میں حصہ لیا اور ان میں کون کونسے واقعات شامل ہیں؟
مصباح: جہاں بھی کوئی انسانی زندگی مصیبت میں ہو وہاں پر جاتی ہوں اور اسے بچانے کی کوشش کرتی ہوں۔ اب تک بلوچستان کے علاوہ پورے ملک میں 250سے زائد مشنز میں حصہ لیا۔ ان میں صرف دہشتگردی کے واقعات نہیں بلکہ قدرتی آفات بھی شامل ہیں۔ ان مشنز میں عام لوگوں کے علاوہ ہمارے تحفظ کیلئے دن رات کام کرنیوالے سپاہیوں کو بھی ایلوکیٹ کیا۔ اس صوبے کی خدمت کے طور پر میں کسی بھی ادارے جہاں میں سمجھوں کہ کسی کی زندگی بچ سکتی ہےاور جو بھی اس شعبے میں کام کررہے ہو اور انہیں میری ضرورت پڑی تو ضرور حاضر ہوجائوں گی۔ جہاں میں بلوچستان کی نمائندگی کرکے رہوں گی۔

 

انڈکس: آخر میں ہمارے قارئین کیلئے کیا پیغام دینا چاہتی ہو؟
مصباح: تعلیم کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔ تعلیم بنیادی زینہ ہے ترقی کا۔ دہشتگردی کی حالیہ لہر نے بلوچستان کو 20سال سے زائد عرصہ پیچھے دکھیل دیا ہے ۔ ہمیں تعلیم پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینا ہوگا۔ والدین لڑکیوں تعلیم پر خصوصہ توجہ دیں۔ وفاق کیجانب سے بلوچستان کے طلبہ کیلئے سکالرشپ پروگرام کے بلوچستان میں اچھے تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں۔ ہمیں سکالرشپ نہ دیں بلکہ ہمارے لیے اچھے ادارے قائم جہاں پر ہمارے بعد بھی ہمارے بچے تعلیم حاصل کرسکے۔ سکالرشپ سے زیادہ توجہ اداروں ، اساتذہ اور سہولیات پر دی جائے۔ اگر ہم سی پیک بلوچستان میں بن رہا ہے تو اس کیلئے بلوچستان کے نوجوانوں کو تیار کرنا ہوگا۔

تبصرہ

دین محمد وطن پال

دین محمد وطن پال کوئٹہ انڈکس کے ایڈمنسٹریٹر ہے ۔ وہ دس سالوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہے اس دوران انہوں نے روزنامہ دنیا، روزنامہ عوام، بلوچستان نیوز اور روزنامہ قدرت کے علاوہ کئی نامور روزناموں کے ساتھ اور پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کوئٹہ مرکز میں پشتو ڈیسک پر خدمات سر انجام دی ہیں۔