بنیادی حقوق کا نہ دینا انسانی زندگی کے تباہی کے مترادف ہے، سول سوسائٹی

کوئٹہ؛
سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے:انسانی حقوق کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ بنیادی حقوق کا نہ دینا انسانی زندگی کے تباہی کے مترادف ہے۔ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے پر 14 سال تک قید اور 50لاکھ تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔ نظامت بہبود نسواں مختلف نوعیت کے کل 598کسیز میں قانونی معائونت فراہم کرچکے ہیں۔ کوئٹہ، خضدار اور سبی میں کرائسس سینٹر کام کررہے ہیں۔ جبکہ لورالائی، کیچ اور نصیرآباد میں مزید تین مراکز وقائم کرنے کی منظور دی جاچکی ہے ۔ بلوچستان میں 66فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہے۔ جو انسانی حقوق کی سب سے بڑی پامالی ہے ۔ ہمارے بچیں بھوک سے مررہے ہیں لیکن ہم سیکیورٹی پر 42 ارب روپے خرچ کررہے ہیں۔ آرٹیکل 29Aمفت بنیادی تعلیم کی گارنٹی دیتا ہے جس سے ہم محروم ہے۔ آئین کےآرٹیکل 8 سے 28 تک بنیادی حقوق دیئے گئے جس ہمارے معاشرے کے لوگ لاعلم ہے۔

 

خواتین پر تشدد کے خلاف فعالیت کے 16 روزہ مہم کے اختتام پر وزارت انسانی حقوق کے زیر اہتمام یو این وومن کے تعائون سے منعقدہ تقریب سے رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ، وزارت بہبود نسواں کی ڈائریکٹر رخسانہ بلوچ، سماجی بہبود کے ارشد لودھی، فیڈرل اینٹلی جنس ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ارسلان منظور، سابق صوبائی الیکشن کمشنر سلطان بایزید، انسانی حقوق کمیشن بلوچستان کی ڈائریکٹر جہاں آراں تبسم اور سول سوسائٹی کے ثناء درانی، اشفاق مینگل،کمل راجپوت، سمیع شارک، صائمہ جاوید، جہیانگیر خروٹی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ یو این وومن کی عائشہ ودود اور سول سوسائٹہ کے مختلف تنظیموں کے نمائندے بھی سیمینار میں شریک تھے۔

 

کوئٹہ، خواتین پر تشدد کے خلاف فعالیت کے 16 روزہ مہم کے اختتام پر وزارت انسانی حقوق کے زیر اہتمام یو این وومن کے تعائون سے منعقدہ تقریب سے رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ خطاب کررہے ہیں۔ (تصویر: زما فوٹوز/ کوئٹہ انڈکس/ دین محمد وطن پال)

 

سیمینار سے خطاب میں رکن بلوچستان اسمبلی ثناء بلوچ نے کہا: بنیادی حقوق کا نہ دینا انسانی زندگیوں کو تباہی کے دھانے پر لیجانا ہے۔ انسانی حقوق کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ انسانی حقوق نہ صرف پڑھایا جائے بلکہ سمجھایا بھی جائے۔ ہمیں سکولوں کی سطح پر نصاب انسانی حقوق کے علاوہ باقی چیزیں پڑھائی جاتی ہے۔ آئین کی ہمارے معاشرے میں اہمیت نہیں ہے کیوں کسی اس کو پڑھا ہی نہیں ہے۔ جن معاشروں میں انسانی اقدار کی پاسداری نہیں کی جاتی وہاں حکمران بھی انسانی حقوق سے نابلد ہوتے ہیں۔ مالیاتی احتساب کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کا احتساب بھی کرایا جائے۔ ایسے لوگوں کو حکمرانی نہیں دی جاتی جو برابری اور انسانی حقوق کی باتی کرتے ہیں۔ برابری بنیاد پر معاشروں کی تشکیل کی جائے۔

 

رکن اسمبلی نے سیمینار سے مزید کہا: بلوچستان میں 66فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہے۔ جو انسانی حقوق کی سب سے بڑی پامالی ہے ۔ ہمارے بچیں بھوک سے مررہے ہیں لیکن ہم سیکیورٹی پر 42 ارب روپے خرچ کررہے ہیں۔ جبکہ ہمیں ہیومن سیکورٹی حاصل ہی نہیں ہے۔ آرٹیکل 29Aمفت بنیادی تعلیم کی گارنٹی دیتا ہے جس سے ہم محروم ہے۔ آئین کےآرٹیکل 8 سے 28 تک بنیادی حقوق دیئے گئے جس ہمارے معاشرے کے لوگ لاعلم ہے۔ بلوچستان میں 50فیصد لوگ پینے کے صاف پانی محروم ہے۔ سابق حکومت نے 5 سالہ دور میں 1600 ارب روپے خرچ کئے لیکن اس کے باوجود جاتے ہوئےتعلیمی کی شرح میں 4 فیصد کمی کرکے گئے۔ جس کا کسی نے بھی کسی قسم کا سوشل آڈٹ نہیں کیا۔ انسانی حقوق کا سوشل آڈٹ کرانے کی ضرورت ہے۔ میری خواہش ہے کہ بلوچستان آئین اور قانون پر عملدرآمد میں لیڈنگ کردار ادا کرے۔

 

کوئٹہ، خواتین پر تشدد کے خلاف فعالیت کے 16 روزہ مہم کے اختتام پر وزارت انسانی حقوق کے زیر اہتمام یو این وومن کے تعائون سے منعقدہ تقریب سے وزارت بہبود نسواں کی ڈائریکٹر رخسانہ بلوچ خطاب کررہی ہے (تصویر: زما فوٹوز/ کوئٹہ انڈکس/ دین محمد وطن پال)

 

نظامت بہبود نسواں کی ڈائریکٹر رخسانہ بلوچ نے سیمینار سے خطاب میں کہا:نظامت بہبود و نسواں کرائسس سینٹروں میں کل 598کسیز میں قانونی معائونت فراہم کرچکے ہیں۔ جن میں کم عمری اور زبردستی شادی کے 257کسیز، ومن ٹریفکنگ کے 98کیسز میں میڈیکل، سائیکو سوشل اور قانونی معائونت فراہم کرچکے ہیں۔ جبکہ ہمارے ان مراکز میںغیرت کے نام پر قتل کے 35 کیسز اور خواتی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے 57 کیسزرجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ جنہیں ہم نے ہر ممکن مدد فراہم کی ہے۔ روایات اور دبائو کی وجہ سے خواتین کو ہراساں کرنے کے بیشتر کیسز رجسٹرڈ نہیں کئے جاتے ہیں۔ نظامت بہبود نسواں کے تحت کوئٹہ، خضدار اور سبی میں کرائسس سینٹر کام کررہے ہیں۔ جبکہ لورالائی، کیچ اور نصیرآباد میں مزید تین مراکز وقائم کرنے کی منظور دی جاچکی ہے جس آئندہ سال کے آخر میں کام شروع کریں گے۔
جو تشدد کے متاثرہ خواتین کو سائیکو سوشل سپورٹ، میڈیکل اور قانونی معائونت کے علاوہ دیگر ضروری مدد فراہم کررہے ہیں۔ رخسانہ بلوچ نے مزید کہاکہ کوئٹہ کے بڑے جامعے میں ہمیں بتایا گیا کہ خواتین وہاں پر جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ لیکن عدم تحفظ کی وجہ سے وہ کیسز رجسٹرڈ نہیں ہوپاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہبلوچستان کمیشن اسٹیٹس آف وومن 2017ء ایکٹ کو فعال کرنے کی ضرورت ہے ۔ دوسرے صوبوں کی نسبت ہم اس قانون میں سب سے پیچھے ہے۔ بلوچستان میں ابھی تک اس کا چیئرپرسن نامزد نہیں کیا گیا ہے۔ صنفی برابری کی پالیسی کی منظوری دی جاچکی ہے۔

 

فیڈرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ارسلان منظور نے خواتین پر تشدد کے خلاف فعالیت کے 16 روزہ مہم کے اختتامی تقریب سے خطاب میں کہا:2007ء میں سائبر کرائم کا قانون پاس ہوا۔ بلوچستان میں 2018ء کے دوران سائبر کرائم کے کل 300 شکایتیں موصول ہوئی ہے۔ جن میں 200 شکایتیں خود خواتین نے رپورٹ کی ہے۔ خواتین کو جنسی طور پر ہرا ساں کرنے کے کل 100 سے زائد شکایتیں موصول ہوئی ہے۔ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے پر 14 سال تک قید اور 50لاکھ تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔ ہماری بدقستمی ہے کہ سزا پانے والے مجرموں کیلئے جیلیں درسگائوں کے طور پر ہے۔ سزا کے بعد انہیں سزا کا ڈر نہیں رہتا ۔انسان نے زراعت سے ڈیجیٹل دور تک ترقی تو کردی لیکن وہ ہزاروں سال قبل جو معاشرتی قدریں تھی وہ اب ڈیجیٹل دور میں نہیں رہی۔

 

کوئٹہ، خواتین پر تشدد کے خلاف فعالیت کے 16 روزہ مہم کے اختتام پر وزارت انسانی حقوق کے زیر اہتمام یو این وومن کے تعائون سے منعقدہ تقریب کے مقررین اراکین صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ، احمد نواز بلوچ، ممتاز لکھاری آغا گل، یو این وومن کی عائشہ ودود، ٹوڈیز وومن کی ثناء درانی، ہوم نیٹ پاکستان کی صائمہ جاوید اور انسانی حقوق کمیشن بلوچستان کی ڈائریکٹر جہاں آران تبسم اسٹیج پر بیٹھے ہیں۔ (تصویر: زما فوٹوز/ کوئٹہ انڈکس/ دین محمد وطن پال)

 

سول سوسائٹی کے رہنمائوں ثناء درانی، صائمہ جاوید، انسانی حقوق کمیشن بلوچستان کی ڈائریکٹر جہاں آراں تبسم اور دیگر نے خطاب میں کہا :سابق دور حکومت کے دور منظور کئے گئے کئی قوانین پر عملدرآمد نہیں ہورہا ان پر عملدرآمد کرانے کی ضرورت ہے۔ کئی قوانین تو اسمبلی سے منظور کئے گئے لیکن اب تک رول آف بزنس ترتیب نہیں دیا گیا ہے۔ ہم دنیا کا وہ واحد قوم ہے جو ہیومن ریسورس پر کام نہیں کرتے۔ ہم سب کو ذمہ دار شہری کے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے حقوق کی آڑ میں دوسروں کے حقوق کی پامالی کرتے ہیں۔ خود احتسابی کے عمل کو فروغ دینا ہوگا۔ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی روکنے کیلئے تمام شہریوں کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ احتساب کے عمل کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ خود احتسابی کے عمل سے ہی ایک اچھے معاشرے کی تکمیل ممکن ہے۔ بلوچستان میں انسانی حقوق کے عالمی چارٹر اور آئین میں دیئے بنیادی حقوق سے متعلق آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔

خبرو تصاویر: کوئٹہ انڈکس/ دین محمد وطن پال

تبصرہ

دین محمد وطن پال

دین محمد وطن پال کوئٹہ انڈکس کے ایڈمنسٹریٹر ہے ۔ وہ دس سالوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہے اس دوران انہوں نے روزنامہ دنیا، روزنامہ عوام، بلوچستان نیوز اور روزنامہ قدرت کے علاوہ کئی نامور روزناموں کے ساتھ اور پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کوئٹہ مرکز میں پشتو ڈیسک پر خدمات سر انجام دی ہیں۔

One thought on “بنیادی حقوق کا نہ دینا انسانی زندگی کے تباہی کے مترادف ہے، سول سوسائٹی

Comments are closed.