بلوچستان میں سرمایہ کاری کے مواقع

تحریر :کوئٹہ انڈکس/ صلاح الدین خلجی سینئر وائس پریزیڈنٹ چیمبر آف کامرس کوئٹہ

عام انتخابات کے بعد وفاق میں عمران خان اور صوبے میں جام کمال خان کی حکومت نے ابتدائی مشکلات کے بعد جہاں اور شعبوں کی طرف توجہ دی ہے وہاں پر بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے خصوصی اقدامات جاری کی ہے۔حال ہی میں سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت ڈیوس میں عالمی سرمایہ کاری کانفرنس منعقد ہوی جس میں جام کمال خان نے حکومت بلوچستان کی طرف سے بھرپور شرکت کی جس میں فوکس آنے والے دنوں میں بلوچستان میں بھرپور سرمایہ کاری تھی۔اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے اس معاملے میں خودمختار ہیں کہ صوبے کی سطح پر دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدے کرسکتی ھے۔ سرمایہ کاری کی فضا تب ھی ممکن ھے کہ جب صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو۔اسی سلسلے میں جنرل عاصم باجوہ بھی جام کمال کی ھمراہ تھے تاکہ سرمایہ کاروں کو ان کے سرمایے کا تحفظ یقینی نظر آئے۔الحمداللہ ۱۲ سال کی بدامنی اور خوف کی فضا چھٹ چکی ہے اور عام آدمی سمیت سرمای کاری کو تحفظ کا یقین ہورہا ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور جوانوں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہے۔اس وقت ملک کی معاشی صورتحال یہ ہے کے درآمدی بلز کے پیسے بڑی مشکل سے برابر ھورہے ہیں ایکسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے گردشی قرضے دن بدن بڑھتے جارہے ہیں ۔

 

ایسے میں اگر ملک میں بیرونی پیسہ نہیں لگے گا تو آنے والے دنوں میں ملک شدید بحران سے دوچار ھوسکتا ہے۔پچھلی حکومتوں نے اپنا سارا زور آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرضے لینےمیں صرف کیا جس کی وجہ سے ملک پر بیرونی قرضہ دیوار چین کی طرح بلند ہوتا گیا۔پاکستان خاص کر بلوچستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے بے شمار مواقع ہیں جن میں سرفہرست معدنیات شامل ہیں جن میں کرومائٹ کوئلہ سنگ مرمر گرینائٹ جپسم زنک تانبہ اور دیگر بے شمار منرلز شامل ہیں۔اگر اس شعبوں میں ہی سرمایا کار صحیع معنوں میں سرمایہ لگایں تو یقینا پاکستان کو موجودہ بحران اور قرضوں سے نجات مل سکتی ہے ۔ پاکستان میں ۹ بلاک ایسے ہیں جہاں معدنیات کے وسیع ذخائر ہیں خوش قسمتی سے ان میں بلوچستان میں ۵ موجود ہیں۔ کوئٹہ چیمبر آف کامرس میں ترکی کے سفیر کی آمد کے مواقع پر ھمارے لوکل ماینرز نے پیش کش کی کے ترکی اپنی مشینری اور افرادی وسائل کو ان معدنیات کی تلاش اور خام مال کی برامد میں استعمال کرسکتا ہے ۔بلوچستان کا کرومایٹ دنیا بہترین کوالٹی کا ہےجو اسلحہ سازی رنگ سازی اور دیگر چیزوں میں استعمال ہوتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ بہترین وسائل کی بدولت کرومایٹ سے دوسرے قیمتی معدنیات الگ کی جاسکیں جیسا کہ چین اس کو امپورٹ کرنے کے بعد کرتا ہے۔

 

سنگ مرمر اور گرینائٹ کے بلوچستان میں اتنے ذخائر ہیں جو آنے والے کئ صدیوں تک کافی ہیں لیکن بد قسمتی سے ھم نے کبھی اس کی طرف سنجیدگی کا مظاہرہ نیں کیا بس مقامی مائن اونروں نے اپنے دستیاب وسائل کی بنیاد پر کام جاری رکھاحالانکہ اگر مائننگ اور جدید مشینوں سے کام لیا جائے تو نہ صرف قیمتی پتھر ضائع نہ ھونگے بلکہ خام مال کے بجائے ھم اسکو قیمتی اشیا کی شکل میں برآمد کر کے بھاری زرمبادلہ کماسکتے ہیںکوئلے کے ذیادہ تر ذخائر شاہرگ ،دکئ ،ہرنائ،مچھ اور ڈیگاری میں پائے جاتے ہیں دنیا بھر میں توانائ کے حصول کے لئے آج بھی کوئلہ کی طلب سب سے زیادہ ہے اگر پاکستان نے آنے والے دنوں میں توانائی کی طلب کو روکنا ھے تو کوئلہ اس سلسلے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے بلوچستان کی لائیوسٹاک ایک بہترین زریعہ ثابت ہوسکتی ہے۔بلوچستان میں مال و مویشی کی تعداد محتاط اندازے کےمطابق پانچ کروڑ ہے جو اپنے دودھ گوشت چمڑے اون اور دودھ سے بنے دوسرے اجزا کی وجہ سے صوبے بلکہ ملک کے لئے معاون ثابت ہوسکتی ہے۔دنیا میں اسوقت حلال گوشت کی ڈیمانڈ سب سے ذیادہ ہے اور بد قسمتی سے پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ بلوچستان اپنے سات کلومیٹر طویل ساحل کے ساتھ سمندری غذا میں خود کفیل ہے۔جہاں پر دنیا کی اعلی کوالٹی کی سمندری مچھلی اور جھینگا وافر مقدار میں ہے جس کی یورپ میں بہت طلب ہے اس سلسلے میں ماضی میں کبھی بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی آرام طلبی کو خیرباد کہہ کر ملک اور صوبے کی بہتری کا سوچیں۔

 

بلوچستان کو ملک بھر میں فروٹ باسکٹ کے نام سے جاناجاتا ہے جو واقعی میں ہے ۔بہترین کوالٹی کا سیب انگور انار کیلا چیری یہاں پیدا ہوتا ہے لیکن مناسب ماحول مارکیٹنگ اور جدید ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی کی وجہ سے کاشت کار کو انکی مناسب قیمت نہیں مل پاتی۔اس سلسے میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بیرون ملک روڈ شوز منعقد کرائے کہ دنیا جان سکے کہ ھمارے سنگلاخ پہاڑوں کے سیب کتنے میٹھے ہیں ۔صوبہ بلوچستان پاکستان کا ۴۳% حصہ ہے اس کا مطلب ہے کہ کاشت کاری کے لیے زرخیز زمین کی کوی کمی نہیں ہے۔اگر زیتون جیسی فصل کی جائے تو نہ صرف خوردنی تیل کی درآمد کم ھوسکتی ہے بلکہ اسکو امپورٹ بھی کیا جاسکتا ہے۔اس فصل کی خوبی یہ ہے کے معمولی مقدار کے پانی اور بغیر کسی سپرے یا کھاد کے اسکو بڑھوتری ہوتی ہے۔ساحلی علاقوں میں کھجور کی بہترین پیداوار ھوتی ہے لیکن بدقسمتی سے مناسب پیکنگ اور مارکٹ نہ ملنے کے باعث ضائع ہوجاتی ہے۔

 

بلوچستان اپنی دستکاری کے لیے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس شعبے کواپنی نگرانے میں لے تاکہ بنانے والے کو مناسب معاوضہ اور ملک کو وسیع تر بیرونی مارکیٹ مل سکے۔ اب تک اس سلسلے میں جتنا بھی کام ہوا ہےوہ نجی شعبے میں اور وہ بھی بغیر کسی ترتیب کے ہوا ہے۔ صبی لورالائ اور قلات اپنی باکمال دست کاری کے لئے کسی نرسری سے کم نہیں ہےضرورت اس امر کی ہے کہ وہا سے تربیت یافتہ افراد کے ذریعے مزید لوگوں کو اس فن کے فروغ میں مددگار بنایا جاسکے۔ اب بات ہوجائے نہ صرف صوبے بلکہ ملک اور جنوبی ایشیا کے لئے گیم چینجر یعنی گوادر کے جس پر دنیا بھر کی نظریں ہیں لیکن ھم اس کے مرکز میں بیٹھ کر اس کی افادیت سے ناخبر ہے۔حال ہی میں سعودی عرب کے دس ڈالر کے آئل ریفائنری کے اعلان نے دنیا بھر کے سرمایا کاروں کی نظریں گوادر کی طرف مرکوز کردی ہیں چین اس کاریڈور کے ظریعے اپنی دو صوبوں کی ۲۷ کروڑ کی آبادی کی ضروریات پوری کرنا چاہتا ہے۔اس کے علاوہ چین اپنی مصنوعات دنیا ھر میں بھجوانا چاہتا ہے باقی ملک تو اپنی جگہ صرف بلوچستان اگر اس موقع سے فائدہ اٹھاے تو آنے والی نسلیں موجودہ غربت اور بےروزگاری کے چکر سے نکل سکیں گے۔

 

کہا جاتا ہے کے پچھلی صدی یورپ کے ترقی کی تھے اور موجودہ صدی جنوبی ایشیا کی ترقی کی ہے پاکستان خصوصا بلوچستان نے بہت سخت دن دیکھے اب وقت ہے کے اللہ کی مدد سے اس صوبے کی تقدیر بدلی جائے۔موجودہ وزیراعلی جام کمال یقینا ایک با ہمت اور با صلاحیت قائد ہیں ان کو چاہیے کہ اس سنہری موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں صوبے کے تاجر بزنس مین ٹریڈ باڈیز اور خصوصا کوئٹہ چیمبر آف کامرس اس سلسلے ہر ممکن مدد اور تعاون کے لیے حاضر ہے۔بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ساتھ ایک میٹنگ میں کوئٹہ چیمبر آف کامرس نے یقین دلایا کہ صوبے میں کسی چیز کی کمی نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت گوادر کے ساتھ ساتھ بوستان خضدار کے انڈسٹریل زون کی تعمیر اور ترقی کے لئے بھی قدم اٹھائے جن میں سرمایاکاروں نے گوادر میں اکنامک زون میں پلاٹوں کی بکنگ کرائ ہے ان کو پلاٹ الاٹ کئے جایں تاکہ وہ پیداواری کام کا آغاز کرسکیں۔حکومت بلوچستان کو چاہیے کہ آنے والے دنوں میں تمام تراقدامات صرف بیوروکریسی کے رحم وکرم پر نہ چھوڑیں بلکہ صوبے کے مایاناز صنعت کاروں اور سرمایا کاروں کے مشورے اور مشاورت سے کریں یقینا حکومت کے لیے یہ گھاٹے کا سودا نہیں ھوگا۔

 

تبصرہ