آغا خان یونیورسٹی کیجانب سے بلوچستان میں امتحانات کے شعبے کو بہتر بنانے سے متعلق کورس اختتام پذیر

کوئٹہ
تعلیمی ماہرین نے کہا ہے؛ بلوچستان میں امتحانات کے نظام میں بہتری کا دار و مدار تربیت پانے والوں کی کارکردگی پر منحصرہے ۔ ہمارا حتمی مقصد تعلیم کی بہتری ہے اور تربیت پانے والوں سے معائونت اور اچھی کارکردگی دکھانے کا توقع ہے۔ آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ نے کیپیسٹی ڈویلپمنٹ پروگرام آف سٹوڈنٹ اسیسمنٹ 2018 اور 19 میں حصہ لینے والے افراد اور اداروں کی خدمت کے اعتراف میں حکومت بلوچستان، یونائٹیڈ نیشنز انٹرنیشنل چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسیف) اور یورپی یونین کے اشتراک سے کوئٹہ میں منصوبے کے اختتامی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

 

 

آغا خان یورنیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کے ڈائریکٹر نے تقریب سے خطاب میں کہا: اے کے یو۔ ای بی کا تصور در اصل پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں مہارت اور جدت کا نمونہ بننا ہے۔ ہمارا مقصد ملک میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ اس پروگرام کی مدد سے اے کے یو ای بی نے ایک مرتبہ پھر اپنے قیام کے مقصد کو واضح اور ثابت کردیاہے۔ حکومت بلوچستان کو طلبا کے امتحانات کی جانچ کے شعبے میں صلاحیت سازی کے لیے معائونت فراہم کی ہے۔ حکومت بلوچستان نے یونیسیف اور یورپی یونین کی معاونت سے اس جدید طرز کے پروگرام سے تجربہ اور مہارتیں حاصل کیں۔ آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ نے حکومت بلوچستان کے بلوچستان اسیسمنٹ اینڈ ایگزامینیشن کمیشن، دی بیورو آف کریکیولم، پالیسی پلاننگ اینڈ امپلی منٹیشن، دی ڈائریکٹوریٹ آف سکولز اور پروفیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیچرز اینڈ ایجوکیشن کے نمائندوں کو طلبا کی کارکردگی کی جانچ کے حوالے سے صلاحیت سازی میں تیکنیکی معائونت فراہم کی ۔

 


 

آغا خان یونیورسٹی ایگزمینیشن بورڈ کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر اسیسمنٹ اور پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر نوید یوسف نے کہا:ایک سال کے عرصے میں بلوچستان کے طلبا کی کارکردگی کی معیار کی جانچ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی صلاحیت سازی کے لیے اس پروگرام میں جدید طریقہ کار اپنایا گیا تھا۔ ہمیں اس پروگرام کے نتائج توقع سے زیادہ اچھے ملے ہیں۔ صوبے میں امتحانات کے نظام میں بہتری کا دار و مدار تربیت پانے والوں کی کارکردگی پر منحصرہے ۔ ہمارا حتمی مقصد تعلیم کی بہتری ہے اور تربیت پانے والوں سے معائونت اور اچھی کارکردگی دکھانے کا توقع ہے۔

 

 

بلوچستان اسیسمنٹ اینڈ ایگزامینیشن کمیشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سید عارف شاہ شیرازی نے کہا:طلبا کی کارکردگی کی جانچ کے ذریعے ہم اس پروگرام میں حاصل کئے گئے اعلیٰ معیارات کو قائم کرسکتے ہیں۔ تربیت پانے والوں کی رائے اور ان مہارتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بلوچستان میں تعلیمی منظرنامے میں خاطر خواہ تبدیلی آئے گی۔ اسیسمنٹ کریکیولم کا ایک اہم ستون ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ بلوچستان میں اسیسمنٹ کے لیے 2015ء میں ایک الگ ادارے کا ایکٹ پاس کیا گیا۔ اس سلسلے کو یہی نہیں روکیں گے اسے ضلعی سطح پر لے جائیں گے۔ اور اس سلسلے میں آغا خان یورنیوسٹی ایگزامینیشن بورڈ کی معائونت حاصل کرتے رہیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس پروگرام کو مزید بڑھانا چاہیے ۔

 

 

یونیسیف بلوچستان کی ایجوکیشن اسپیشلٹ پلوشہ جلالزئی کی نمائندگی کے طور پر سحرش ناگی نے کہا:بی اے ای سی کے قیام کے بعد ہم نے اس ادارے کی اندرونی سطح پر صلاحیت سازی کی ضرورت کو محسوس کیا۔ موجودہ نظام کو جدید طور پر متعارف کرانے کی کوشش کی۔ ہم ایک ایسا نظام تشکیل دینا چاہتے تھے جو موجودہ نظام کو مکمل طور پر تبدیل کردے۔ آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیش بورڈ کی مدد اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کی جس کے اچھے نتائج نکلے اور مطلوبہ نتائج حاصل کئے۔ اس سلسلے کو یہی نہیں روکیں گے اسے آگے لے جائیں گے ۔سکول اور بچے ہیں لیکن وہاں پر تعلیم نہیں دی جاتی۔ بلوچستان میں دیکھا گیا ہے کہ سکولوں میں پڑھائی نہیں ہے۔ اگر بچوں نے ریڑھیاں لگانی ہے تو انہیں سکول میں داخل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہمیں بچوں کی کیپسٹی کو معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ انہیں کہاں اور کس سطح پر معائونت کی ضرورت ہے ؟ اگر اساتذہ بچوں کو پڑھاتے نہیں ہے تو انہیں امتحانات میں نقل سے روکنا ان کے ساتھ ظلم ہے۔ ایک ڈپٹی کمشنر نے ہمیں بتایا تھا”بچوں کو نقل روکا تو بچوں نے سوال کیا کہ آپ آئیں جب ٹیچرز سکول نہیں آرہے تھے اور ہمیں پڑھا نہیں رہے تھے تب آپ کیوں نہیں آئے اور آج نقل سے روکنے آرہے ہو۔” تعلیم کے شعبے سے منسلک تمام ادارے ملکر سکولوں کے نظام خصوصی امتحانات کے نظام میں بہتری لائیں۔

 


 

ڈائریکٹر سکولز منیب خان نے منصوبے کے اختتامی تقریب سے خطاب میں کہا:بلوچستان میں تعلیم کے نظام میں بہتری لانے کیلئے سب کو ملکر کام کرنا ہوگا۔ 7 کروڑ روپے اساتذہ کی تربیت کی مد میں ملے ہیں۔ اساتذہ کوالیفائڈ ہوں گے اور کوالیفائڈ بچے پیدا کریں گے۔ اساتذہ کی تربیت کی زیادہ ضرورت ہے۔

 

 

تقریب کے اختتام پر تربیت پانے والوں نے اپنے تجربات سے متعلق شرکاء کو بتایا:” اس ایک سالہ کورس میں طلبا کے امتحانات پر توجہ مرکوز کیا۔ اس میں مختلف اسائمنٹ دیئے گئے تھے جس کی مدد سے ہماری رہنمائی کی گئی۔ بلوچستان میں اس کی زیادہ ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے میں مدد کریں گے۔ “جبکہ آغاخان یورنیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کے تربیت کاروں منیرہ محمد، رابعہ ناصر، رابعہ ہیرانی، زین الملک ،پرواجیکٹ منیجر قاضی تیمور جبران اور ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر آپریشنز حنیف شریف نے بھی خطاب کیا ،تربیت پانے والوں میں اسناد تقسیم کئے اور شرکاء میں یادگاری شیلڈیں تقسیم کئے گئے۔

رپورٹ: کوئٹہ انڈکس/ دین محمدوطن پال

تبصرہ

دین محمد وطن پال

دین محمد وطن پال کوئٹہ انڈکس کے ایڈمنسٹریٹر ہے ۔ وہ دس سالوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہے اس دوران انہوں نے روزنامہ دنیا، روزنامہ عوام، بلوچستان نیوز اور روزنامہ قدرت کے علاوہ کئی نامور روزناموں کے ساتھ اور پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کوئٹہ مرکز میں پشتو ڈیسک پر خدمات سر انجام دی ہیں۔