معذور افراد کیلئے ریمپ کے بغیر کسی عمارت کا نقشہ پاس نہیں کیا جائے گا۔ بشریٰ رند

کوئٹہ:
اس وقت تک کسی بلڈنگ کے نقشے کو سرکاری سطح پر پاس نہیں کیا جائے گا جبکہ اسے افراد باہم معذوری کیلئے آسان نہ ہو۔ وفاقی نوکریوں میں خصوصی افراد کا کوٹہ2فیصد جبکہ بلوچستان میں یہ کوٹہ 5فیصد ہے۔ بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ میں خصوصی افراد کیلئے 10فیصد کا کوٹہ مختص ہے۔ رویوں میں تبدیلی لانے سے ہی مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ سی پی ڈی آئی کی جانب سے خصوصی افراد کے انتخابی و سیاسی حقوق سے متعلق منعقدہ سیمینار سے رکن صوبائی اسمبلی بشریٰ رند، سیکرٹری سماجی بہبود رئوف بلوچ، سی پی ڈی آئی کے راجہ شعیب اکبر اور محمد آصف، سول سوسائٹی کے ضیاء خان، کرامت اللہ، قمر انساء ایڈووکیٹ، عبدالمنان، فیاض احمد اور دیگر نے خطاب کیا۔

 

 

رکن صوبائی اسمبلی بشریٰ رند نے کہا ہے؛ صوبائی حکومت تمام بلڈنگوں کے نقشوں کو اس وقت تک پاس نہیں کریں گے جب تک اس میں ریمپ موجود نہ ہو۔ صوبائی حکومت معذور افراد کے مسائل پر توجہ دے رہی ہے ۔ وزیراعلیٰ سمیت تمام وزراء عوام کو جواب دہ ہیں۔ حکومت صوبے کے مسائل پر توجہ دے رہی ہے۔ تعلیم معاشرے کے مستقبل کا ضامن ہے ۔ بلوچستان میں تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ آنیوالے وقت میں بلوچستان باقی صوبوں سے لیڈ کرے گا۔ فنڈز کی کمی کے باعث صوبائی حکومت مشکلات سے دوچار ہے۔ مستقبل میں محرومیوں کو دور کرنے کیلئے صوبائی حکومت ہرممکن تعائون کرے گی۔

 

 

سیکرٹری سوشل ویلفیئر رئوف بلوچ نے سیمینار سے خطاب میں کہا؛ بلوچستان میں سماجی بہبود کے ساتھ 14090معذور افراد رجسٹرڈ کئے جاچکے ہیں۔ بلوچستان انڈومنٹ فنڈ میں خصوصی افراد کیلئے 10فیصد کا کوٹہ مختص کیا گیا۔ جبکہ ان کے مسائل کیلئے محکمہ نے خصوصی ڈیسک تشکیل دیا ہے۔ ہمیں خصوصی افراد کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا ہوگا۔ یہ سوشیو اکنامک ڈویلپمنٹ میں اچھی کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ محکمہ سوشل ویلفیئر افراد باہم معذور ی کو خدمات کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے اورہم معذوری سرٹیفکیٹ کے حصول کا طریقہ کار سادہ اور آسان بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔خصوصی افراد کے مسائل کو کم کرنے کیلئے سب سے پہلے ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگا۔ سماجی بہبود خصوصی افراد کے مسائل پر توجہ دے رہا ہے۔

 

 

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سی پی ڈی آئی کے سینئر پروگرام منیجر راجہ شعیب اکبر اور صوبائی کوارڈی نیٹر محمد آصف نے معذور افراد کی جمہوری عمل میں شمولیت کے فروغ کیلئے موجودہ قانونی ڈھانچہ کی تفصیلات سے آگاہ کیا اوران افراد کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کیلئے ضروری قانونی و انتظامی اصلاحات بارے تبادلہ خیال کیا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معذور افراد کے مسائل کوہمدردی جیسے عمومی رویے سے ہٹ کرحقوق و ذمہ داریوں کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سماجی تنظیموں کی جانب سے وئیل چیئر کی تقسیم جیسے اقدامات تو کئے جارہے ہیں لیکن بدقسمتی ان کے جائز حقوق اور اس سے متعلق قانون اور اس پر عملدرآمد کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا۔ سیاسی جماعتوں میں باقی تمام ونگ تو موجود ہیں لیکن خصوصی افراد کا ونگ کسی سیاسی جماعت میں موجود نہیں ہے جو ان کے حقوق کیلئے آواز بلند کرسکے۔ معاشرے کے تمام طبقات کو برابری کی بنیاد پر فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کئے جائیں۔ پہلی بار عام انتخابات کے دوران معذور افراد کو پوسٹل بیلٹ کی اجازت دی گئی تھی جوکہ خوش آئند بات ہے۔

 

 

آرگنائزیشن فار سپیشل ٹیلنٹ (ہوسٹ) کے سربراہ کرامت اللہ خان، کوئٹہ آن لائن کے بانی ضیاء خان قمر انساء ایڈووکیٹ، نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عبدالمنان الیکشن کمیشن کے نمائندے فیاض احمد اور دیگر نے معذور افراد سے متعلق تنظیموں کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ معذور افراد کو معذوری سرٹیفکیٹ اورقومی شناختی کارڈز کے حصول کیلئے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معذوری کا سرٹیفیکٹ کے حصول کو آسان بنایا جائے تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ہمیں جسمانی نہیں بلکہ معاشرتی معذوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خصوصی افراد خواتین سے بھی زیادہ مظلوم ہوتے ہیں۔ اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کا کوٹہ تو ہے لیکن خصوصی افراد کا کوٹہ نہیں ہے۔ سابق سپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید خان درانی اور اراکین صوبائی اسمبلی عارفہ صدیق اور شمع اسحاق کے مشکور ہیں جن کی کاوشوں سے خصوصی افراد کا ایکٹ اسمبلی سے پاس کرایا گیا۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس پر کسی قسم کا عملدر آمد نہیں ہورہا۔ جس اسمبلی سے ایکٹ پاس کیا گیا اسی کے بلڈنگ میں خصوصی افراد کیلئے آسان رسائی موجود نہیں ہے۔ جہاں کوئی وئیل چیئر استعمال کرنیوالا شخص نہیں جاسکتا۔ پہلے انسان اورمعذور سمجھا جائے۔ ہمیں بھی اسمبلی میں اپنی نمائندگی اور شناخت چاہیے۔ سیاسی تنظیموں اور حکومتی عہدیداران کو چاہیے کہ وہ معذورافراد کے نمائندوںکی فیصلہ سازی میں شرکت کی حوصلہ افزائی کریںتاکہ اس عمل میں انکی شمولیت یقینی بنائی جاسکے۔

 

 

سول سوسائٹی کے نمائندوں نے سیمینار سے مزید خطاب میں کہا؛ بلند عمارتوں میں معذور افراد کیلئے آسان رسائی نہیں ہے جس پر صوبائی حکومت کو عملدر آمد کرانا چاہیے۔ خصوصی افراد کے مسائل اور حقوق سے متعلق 2017ء میں اسمبلی نے ایکٹ تو پاس کیا لیکن اس کے رول آف بزنس نہ بنانا بھی خصوصی افراد کے مسائل میں اضافے کا باعث ہے۔ جب تک 2017ء ایکٹ کے رول آف بزنس نہ بنائے جائے تب تک مسائل حل نہیں ہوسکیں گے اور نہ ہی اس پر عمل درآمد ممکن ہوسکے گا۔ سرکاری سطح پر خصوصی افراد کا کوٹہ موجود ہے لیکن نجی سطح پر کسی بھی ادارے میں خصوصی افراد کا کوئی کوٹہ موجود نہیں ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ خواتین اور اقلیتوں کی طرح خصوصی افراد کیلئے بھی کوٹہ مختص کرے۔ صوبائی اسمبلی میں خصوصی افراد کی نمائندگی موجود ہے نہ ہی اسمبلی میں ریمپ موجود ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ معذور افراد کی فلاح و بہبود کیلئے فوری طور پر ٹھوس اقدامات کرے اور ان کی انتخابی عمل میں شمولیت کیلئے موجودہ قانونی ڈھانچے کو بہتر بنائے۔اس کاآغا زایسے بھی کیا جاسکتا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کومعذور افراد کیلئے الگ ونگ بنانے کا قانونی طور پر پابندبنایا جائے اور خصوصی افراد کیلئے عام نشستوں کے ساتھ ساتھ سپیشل نشستوں کا کوٹہ بھی مختص کیا جائے۔

رپورٹ: کوئٹہ انڈکس/دین محمد وطن پال

تبصرہ

دین محمد وطن پال

دین محمد وطن پال کوئٹہ انڈکس کے ایڈمنسٹریٹر ہے ۔ وہ دس سالوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہے اس دوران انہوں نے روزنامہ دنیا، روزنامہ عوام، بلوچستان نیوز اور روزنامہ قدرت کے علاوہ کئی نامور روزناموں کے ساتھ اور پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کوئٹہ مرکز میں پشتو ڈیسک پر خدمات سر انجام دی ہیں۔