گھروں میں کام کرنیوالی خواتین کو پلیٹ فارم کی ضرورت ہے، فاروق لانگو؍سائرہ عطاء

کوئٹہ:
خواتین کا ٹیلنٹ دیکھ کر خوشی ہوئی ۔ جن چیزوں کیلئے پہلے ہمارے لوگ دوسرے صوبوں کا رخ کرتے ہیں لیکن ہمارے خواتین کی قابلیت اب وہاں کے لوگوں کو یہاں لاسکیں گے۔ مختلف اضلاع سے 200 خواتین کو تربیت دے کر انہیں بزنس ٹول دیں گے تاکہ وہ خود اپنا کاروبار کرسکیں۔قرضہ پروگرام پر بھی کام ہورہا ہے جس میں خواتین اپنا کاروبار شروع کرنے کیلئے حکومت سے قرضہ لے سکیں گی۔ ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ میٹرو پولیٹین کارپوریشن میر فاروق لانگو اور سیکرٹری محکمہ بہبود و نسواں سائرہ عطاء نے بلوچستان کی خواتین کی کشیدہ کاری کو مارکیٹ تک پہنچانے کیلئے ماس ہیومن سروسز کے زیر اہتمام محکمہ ثقافت و سیر تفریح حکومت بلوچستان کے زیر اہتمام شہید بے نظیر بھٹو پارک میں 2 روزہ میلے کے دوران میڈیا کے نمائندوں اور کوئٹہ انڈکس سے خصوصی بات چیت کی۔

 

 

ایڈمنسٹریٹر میٹرو پولیٹین کارپوریشن میر فاروق لانگو نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت میں کہا؛ کوئٹہ کے خواتین کا ٹیلنٹ دیکھ کر خوشی ہوئی ۔ جن چیزوں کیلئے پہلے ہمارے لوگ دوسرے صوبوں کا رخ کرتے ہیں لیکن ہمارے خواتین کی قابلیت اب وہاں کے لوگوں کو یہاں لاسکیں گے۔ لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ لوگوں کو خوف سے نکل کر ایسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ حکومت سے اپیل کرتاہوں کہ ان خواتین کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرے تاکہ ان کا کام دوسرے ملکوں تک پہنچایا جاسکے۔ تاکہ کی مہارتوں سے استفادہ کیا جاسکے۔ میلے میں رکھی چیزیںدوسرے صوبوں کے مارکیٹوں سے 10 گناہ کم ہے۔

 

 

سیکرٹری نظامت بہبود و نسواںسائرہ عطاء نے میلے کے انعقاد کے حوالے سے کوئٹہ انڈکس سے بات چیت میں کہا؛ بلوچستان میں خواتین ہاتھوں سے جو اشیاء بناتی ہےجس کے مانگ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہے۔ انہیں مارکیٹ تک پہنچانے میں ایسے پروگراموں کا انعقاد اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس میلے میں بلوچستان کی مشہور کشیدہ کاری کے مختلف اقسام رکھے گئے ہیں۔ جن کو مارکیٹ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایسی خواتین سامنے آئیں اور اس طرح کے پروگراموں کے انعقاد میں اپنا کردار ادا کرے۔ تاکہ ان خواتین کو ہاتھوں کا کام جس کی مانگ پوری دنیا میں ہے کو مارکیٹ تک پہنچانے میں ان خواتین کی مدد کرے۔ مختلف اضلاع سے 200 خواتین کو تربیت دے کر انہیں بزنس ٹول دیں گے تاکہ وہ خود اپنا کاروبار کرسکیں۔ اس کے علاوہ قرضہ پروگرام پر بھی کام ہورہا ہے جس میں خواتین اپنا کاروبار شروع کرنے کیلئے حکومت سے قرضہ لے سکیں گی۔ ہم ان کاموں کو آن لائن سسٹم کے ذریعے اس کو انٹرنیشنل مارکیٹ تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

 
 

سائرہ عطاء نے مزید کہا؛ اس شعبے میں ہر گھر میں ورکرز موجود ہیں۔ ان خواتین کے کاموں کو بین الاقوامی مارکیٹ کے مانگ کے مطابق بنانے کیلئے مزید اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ہینڈ میڈ کشیدہ کاری سے منسلک زیادہ تر گھریلوں خواتین ہیں اب کو مارکیٹ میں لانے کیلئے مڈل مین کا کردار ہوتا ہے اس وجہ سے انہیں اس کے کام پورا معاوضہ نہیں ملتا ۔ ہوم بیسڈ ورکرز پر کام کرنیوالی تنظموں کے ساتھ ملکر اس کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ابھی ہم ڈیٹا کی طرف جارہے ہیں پورے صوبے سے ڈیٹا جمع کررہے ہیں جس کے بعد اس کے روک تھام کیلئے مانیٹرنگ کا میکینزم بنائیں گے۔

 

 

میلے کی آرگنائز میریم چوہدری نے کوئٹہ انڈکس کو بتایا ؛ ہم صرف لاشیں نہیں بلکہ جشن بھی منانا چاہتے ہیں۔ لوگ جوک درجوک آرہے ہیں ۔ میلےخواتین کی بڑی تعداد میں شمولیت سے ظاہر ہوتا ہے۔ کہ یہاں پر امن و امان کا فضاء ہے۔ 22 تنظیموں کے سٹالوں پر مشتمل میلہ ہے۔ یہ وہ خواتین ہے جو گھروں میں کام کرتی ہے۔ میلے میں صرف کا کام رکھا گیا ہے۔ جو ان کے معاشی صورتحال کو بھی بہتربنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ میلے کا بنیادی مقصد وہ خواتین جو گھروں میں کام کرتی ہے ان کے کام یہاں مارکیٹ تک پہنچانا ہے تاکہ ان کو مزید کام کا آرڈر بھی مل سکے اور ان کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانا ہے جس سے غربت کے خاتمے میں مدد مل سکے گی۔
رپورٹ/ کوئٹہ انڈکس/ دین محمد وطن پال

تبصرہ

دین محمد وطن پال

دین محمد وطن پال کوئٹہ انڈکس کے ایڈمنسٹریٹر ہے ۔ وہ دس سالوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہے اس دوران انہوں نے روزنامہ دنیا، روزنامہ عوام، بلوچستان نیوز اور روزنامہ قدرت کے علاوہ کئی نامور روزناموں کے ساتھ اور پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کوئٹہ مرکز میں پشتو ڈیسک پر خدمات سر انجام دی ہیں۔