بلوچ طلباء ایکشن کمیٹی نے مطالبات کے حق میں حیران کن اقدام کرلیا

کوئٹہ؛
بلوچستان میں روایتی طور پر طلباء اپنے مطالبات کے حق میں کلاسز سے بائیکاٹ، احتجاجی کیمپ اور سڑکوں کو بلاک کرکے احتجاج کرتے ہیں۔ لیکن بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے ایک نئی روایت کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ یقینا یہ روایت نہ صر بلوچستان میں تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دیں گے بلکہ اسے پوری دنیا میں سراہا جائے گا۔ ماس ہیومن سروسز کیجانب سے ادارہ ثقافت و سیر و تفریح حکومت بلوچستان کے تعائون سے منعقدہ 2 روزہ نمائش میں بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی جانب سے کتابوں کا سٹال لگایا گیا۔ جس میں انہوں نے اپنے مطالبات پر مشتمل ایک نوٹ تیار کیا جس میں لوگوں سے مطالبات کے حل کیلئے تعائون کی اپیل کی گئی۔ بلوچستان میں پہلی ایسا ہوا کہ کسی طلباء تنظیم نے احتجاج کے بجائے ایک مثبت سرگرمی کے ذریعے دوسرے لوگوں سے مطالبات کے حل کیلئے مدد کی اپیل کی ہے۔

 

 

بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے اراکین صوبیہ بلوچ، ذکیہ بلوچ اور اعجاز بلوچ نے کوئٹہ انڈکس سے بات میں کہا؛ آج کے اس ثقافتی میلے میں بلوچ طلباء ایکشن کمیٹی کی جانب سےکتابوں سٹال کا مقصد معاشرے میں کتاب کلچر کو فروغ دینا ہے اور بلوچستان کے طلباء کے مسائل کی طرف لوگوں کا توجہ حاصل کرنا ہے۔بلوچستان بھر سے ہزاروں کلو میٹر دور یہاں طلباء اپنے گھر بار چھوڑ کر تعلیم کے حصول کیلئے یہاں آتے ہیں جن کیلئے یہاں پر رہنا مشکل اور دشوار ہوتا ہے۔ تعلیم اور ہاسٹل کے اخراجات پورے نہ کرسکنے کے باعث بہت سے طلباء تعلیمی میدان چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ کوئٹہ میں مخصوص اداروں کے علاوہ باقی تعلیمی اداروں میں ہاسٹل کی سہولت موجود نہیں ہے۔ جبکہ نجی ہاسٹل کے اخراجات طلباء کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے۔

 

 

طلباء نے اس بک سٹال کے ذریعے عوام سے اپیل عوام سے اپیل کی ہے؛ ہماری آواز ایوانوں اور حکام بالا تک پہنچا کر بلوچستان کے طلباء کا ساتھ دیں۔ طلباء پر وضائف بند کرنے سے فیسوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ جس سے بلوچستان کے طلباء پر تعلیمی دروازے بند ہورہے ہیں۔ طلباء کی سیاسی سرگرمیوں پر بندش سے بھی تعلیمی اداروں میں طلباء نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں شرکت کے اہل نہیں ہوں گے۔ اب طلباء تنظیمیں تعلیمی اداروں میں کسی بھی قسم کے تربیتی، علمی یا بحث و مباحثے کے تقاریب منعقدہ نہیں کرسکتے۔ تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی اہلکارانوں کی تعداد کو کم کرکے تعلیمی اداروں میں خوف کا فضاء ختم کیا جائے۔ عوام ہمارے مسائل حکام بالا تک پہنچانے میں ہماری مدد کرے۔

 

اس دو روزہ میلے کا انعقاد ماس ہیومن سروسز کی جان سے محکمہ ثقافت و سیر و تفریح حکومت بلوچستان کی جانب سے کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد صوبے میں پر امن سرگرمیوں کو پروان چڑھانا اور خواتین کی بہبود اور انہیں معاشرتی سرگرمیوں میں شامل کرنا ہے۔ تاکہ معاشرے میں مثبت سوچ اور سرگرمیوں کا فروغ دیا جاسکے۔

بات چیت/ کوئٹہ انڈکس/ دین محمد وطن پال

تبصرہ

دین محمد وطن پال

دین محمد وطن پال کوئٹہ انڈکس کے ایڈمنسٹریٹر ہے ۔ وہ دس سالوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہے اس دوران انہوں نے روزنامہ دنیا، روزنامہ عوام، بلوچستان نیوز اور روزنامہ قدرت کے علاوہ کئی نامور روزناموں کے ساتھ اور پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کوئٹہ مرکز میں پشتو ڈیسک پر خدمات سر انجام دی ہیں۔