کوئٹہ ؛
بلوچستان کے اہم معاشی شہر گوادر میں لگائے گئے کتب میلے میں 2 اعشاریہ 8 ملین سے زائد کے کتب فروخت ہوئیں۔ میلے میں ملکی سطح کے بڑے پبلشرز نے مختلف زبانوں کے کتب رکھے تھے۔ میلہ 16 فروری تک جاری رہا
گوادر میں جاری اس کتب میلے میں ملک بھر کے ادیبوں، دانشوروں، مصنفین اور شعراء نے بھی شرکت کی۔ جبکہ میلہ میں ملکی سطح کے بڑے پبلشرز نے سٹالز لگائے تھے۔ جس میں بلوچی اور براہوی زبان کے علاوہ اردو اور انگریزی زبان کی کتابیں بھی رکھی گئی تھی۔
گوادر میں مقامی ادارے کی جانب سے جاری اس کتب میلہ میں ملک بھر سے آئے ہوئے دانشوروں، مصنفین اور شعرا نے شرکت کی۔ اس کتب میلے میں فروخت ہونے والی کتابوں میں ادب، ناول اور شاعری کے مجموعے بھی شامل ہیں۔
اس میلے کے دوران کل 2 اعشاریہ 8 ملین میں سے 1 ملین صرف بلوچی کتابیں فروخت ہوئی ہیں جبکہ 1 اعشاریہ 8 ملین روپے کی اردو اور انگریزی زبان کی کتابیں فروخت ہوئی ہیں۔ میلے میں ادبی نشستوں کے علاؤہ مقامی موسیقی اور ثقافتی رنگ بھی بکھیرے گئے۔
کوئٹہ ؛
بلوچستان کے اہم معاشی شہر گوادر میں لگائے گئے کتب میلے میں 2 اعشاریہ 8 ملین سے زائد کے کتب فروخت ہوئیں۔ میلے میں ملکی سطح کے بڑے پبلشرز نے مختلف زبانوں کے کتب رکھے تھے۔ میلہ 16 فروری تک جاری رہا
گوادر میں جاری اس کتب میلے میں ملک بھر کے ادیبوں، دانشوروں، مصنفین اور شعراء نے بھی شرکت کی۔ جبکہ میلہ میں ملکی سطح کے بڑے پبلشرز نے سٹالز لگائے تھے۔ جس میں بلوچی اور براہوی زبان کے علاوہ اردو اور انگریزی زبان کی کتابیں بھی رکھی گئی تھی۔
گوادر میں مقامی ادارے کی جانب سے جاری اس کتب میلہ میں ملک بھر سے آئے ہوئے دانشوروں، مصنفین اور شعرا نے شرکت کی۔ اس کتب میلے میں فروخت ہونے والی کتابوں میں ادب، ناول اور شاعری کے مجموعے بھی شامل ہیں۔
اس میلے کے دوران کل 2 اعشاریہ 8 ملین میں سے 1 ملین صرف بلوچی کتابیں فروخت ہوئی ہیں جبکہ 1 اعشاریہ 8 ملین روپے کی اردو اور انگریزی زبان کی کتابیں فروخت ہوئی ہیں۔ میلے میں ادبی نشستوں کے علاؤہ مقامی موسیقی اور ثقافتی رنگ بھی بکھیرے گئے۔
کوئٹہ ؛
بلوچستان کے اہم معاشی شہر گوادر میں لگائے گئے کتب میلے میں 2 اعشاریہ 8 ملین سے زائد کے کتب فروخت ہوئیں۔ میلے میں ملکی سطح کے بڑے پبلشرز نے مختلف زبانوں کے کتب رکھے تھے۔ میلہ 16 فروری تک جاری رہا
گوادر میں جاری اس کتب میلے میں ملک بھر کے ادیبوں، دانشوروں، مصنفین اور شعراء نے بھی شرکت کی۔ جبکہ میلہ میں ملکی سطح کے بڑے پبلشرز نے سٹالز لگائے تھے۔ جس میں بلوچی اور براہوی زبان کے علاوہ اردو اور انگریزی زبان کی کتابیں بھی رکھی گئی تھی۔
گوادر میں مقامی ادارے کی جانب سے جاری اس کتب میلہ میں ملک بھر سے آئے ہوئے دانشوروں، مصنفین اور شعرا نے شرکت کی۔ اس کتب میلے میں فروخت ہونے والی کتابوں میں ادب، ناول اور شاعری کے مجموعے بھی شامل ہیں۔
اس میلے کے دوران کل 2 اعشاریہ 8 ملین میں سے 1 ملین صرف بلوچی کتابیں فروخت ہوئی ہیں جبکہ 1 اعشاریہ 8 ملین روپے کی اردو اور انگریزی زبان کی کتابیں فروخت ہوئی ہیں۔ میلے میں ادبی نشستوں کے علاؤہ مقامی موسیقی اور ثقافتی رنگ بھی بکھیرے گئے۔