کوئٹہ
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں اگست کے آخری ہفتے میں ہونیوالے مسلسل بارشوں نے جہاں انسانی زندگی کو مشکلات میں ڈال دیا تو وہاں سیلاب کی شکل اختیار کرکے تباہی مچھا دی۔ اس صورتحال سے نمٹنا عوامی سطح پر تو کیا حکومتی سطح پر بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ مکانات اور کچھی ابادی منہدم ہوگئی جبکہ زراعت باغات بھی بڑے پیمانے پر تباہ ہوئے۔ بلوچستان ہر سال انگور، سیب اور دیگر پھلوں کے علاوہ خشک میوہ جات بھی بڑے پیمانے پر نہ صرف بین الصوبائی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایکسپورٹ کرتا ہے۔
کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک کے رہائشی عصمت اللہ کاکڑ کے 300 سیب کے درختوں میں سے 30 درخت پانی میں مکمل طور پر بہہ گئے ہیں اور 30 کو زیادہ نقصان پہنچا جبکہ باقی ماندہ درختوں کو بھی جزوی طور پر نقصان پہنچا اور باغ کی زمین پہاڑی بجری سے برگئی جس کی صفائی سے تاحال وہ قاصر ہے۔ عصمت کاکڑ کے مطابق اگر باغ کی صفائی نہ کی گئی تو درختوں کے خشک ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ کیوں کہ درخت کو سیزن میں مٹھی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی خیال محکمہ زراعت بلوچستان کے پلانٹ پروٹیکشن ڈائریکٹر ڈاکٹر عارف شاہ کاکڑ کا بھی ہے۔ ان کا کہنا کہ تیز رفتار سیلابی ریلہ اپنے ساتھ نہ صرف مٹھی لاتا ہے بلکہ چھوٹے چھوٹے پتھر بھی ساتھ لاتا ہے۔ سائل (یعنی زمین) میں جڑھ کا ایریا ہوتا اگر وہاں پتھر آتا ہے تو جڑھ خوراک نہیں لے سکتا کیوں کہ پتھر خشک ہوتا ہے اور وہ درخت کو خوراک نہیں دے پاتا۔
عصمت کاکڑکا مزید کہنا تھا کہ جب ان دنوں کی یاد آتی تو اب بھی رونگٹیں کھڑی ہوجاتی ہے کہ ہم کس کرب سے گزرے۔ بارشوں کے باعث جب ہنہ کا کوئٹہ شہر سے زمینی رابطہ ٹوٹ گیا تو یہاں دکانوں میں سٹاک ختم ہوگیا تھا خوراک کی چیزیں تو کیا انہیں ایک ماچس کی تھلی تک نہیں مل رہی تھی۔ یہاں علاقے کے لوگوں نے اپنی مال مویشی ذبع کرکے لوگوں کو خوراک فراہم کی۔ عصمت کے مطابق صرف ہنہ سالانہ 10 سے 12 کروڑ مالیت کا سیب مارکیٹ کو دیتا ہے جبکہ اس سال لوگ باغات پر کیا ہوا خرچہ بھی نہ نکال سکے۔ لوگ معاشی طور پر مکمل طور پر ٹوٹ چکے ہیں۔ میں اپنے 300درختوں کے باغ سے پچھلے سال4300 پیٹی سیب مارکیٹ کو پروڈیوس کیا تھا جبکہ اس سال بمشکل 180 پیٹی سیب مارکیٹ کو دے سکے۔ بڑی تعداد میں مارکیٹ کے لیے تیار پیٹیا پانی بہہ گئے۔ پورے ہنہ میں 12000سے زیادہ درخت ہے۔
نثار احمد 22سال سے سیب کے کاروبار سے منسلک ہے وہ ہر سال ہنہ سے سیب خرید کر لاہور کے منڈی تک پہنچاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پچھلے سال 7لاکھ50ہزار پیٹی سیب ہنہ سے لاہور کے منڈی کو پروخت کیا تھا۔ہنہ میں 95فیصد تور کعلو اور 5فیصد باقی سیب ہے۔ مارکیٹ میں تور کعلو سیب کی ڈیمانڈ سب سے زیادہ ہے اس وجہ سے یہاں کے سیب کی اہمیت ہے۔ لیکن اس سال صرف 4لاکھ پیٹی سیب ہنہ سے نکلے ہیں۔ ایک پیٹی میں 18کلو سیب آتا ہے جو کل تقریبا 72لاکھ کلو بنتا ہے لیکن ان 4لاکھ پیٹی میں سے بھی 2لاکھ پیٹی سیب مارکیٹ تک سلامت پہنچانے میں کامیاب ہوئے باقی سارا مال خراب ہوگیا۔ کیوں کہ بلوچستان کا پورے ملک زمینی رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔ جس کی وجہ سیب اور دیگر پھل گاڑیوں میں خراب ہوگئے تھے۔ اس سال ہمیں کم از کم 75فیصد نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
عصمت کاکڑ نے بتایا کہ ہنہ اوڑک تین تنگیوں پر مشتمل ہے۔ جن میں سے کئی بڑے ندیاں نکلتی ہے مسلسل تین دن کے بارش کے پانی کا رفتار جب بڑھ گیا تو ہمیں ریلے کے شور سے اندازہ ہوا کہ ریلہ کس قدر خطرناک ہے اس بنا پر ہم محلے والوں نے ندی کے قریب گھروں کو خالی کیا اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کئے۔ جب دو بڑے ندیوں کے ریلے ساتھ مل گئے تو اس سے پریشر بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔ پانی کے بہاؤ کے اس رفتار کو ندیوں پر بنائے گئے پل برداشت نہ کرنے پر ٹوٹ جانے سے پانی کا بہاؤ ابادی اور باغات کی طرف ہوا۔ ہم باغات چھوڑ کر آبادی بچانے میں لگ گئے۔ کیوں کہ اس وقت مالی نقصان سے زیادہ جانی نقصان کا خطرہ تھا تو ہم نے محلے کے لوگوں کو ساتھ ملاکر خطرات کا سامنا کرنیوالے گھروں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جس سے جانی نقصان نہیں ہوا۔ مسلسل تین دن بارشوں نے انہیں اتنا مشکل میں ڈال دیا تھا کہ وہ باغ کو بچانے کیلئے کچھ بھی نہیں کرپائے۔ باغ کے عقب سے گزرنے والے نالے پر بناے پل بند ہوگئے تھے جس کے ٹوٹ جانے سے پانی کا سارا پریشر باغ کے دیواروں پر پڑا جس سے سیلابی ریلہ نے باغ میں گھس کر تباہی مچھا دی
عبدالفیاض کا تعلق بھی ہنہ سے ہے وہ بھی ایسے مشکلات گزرے جس نے ان کی زندگی میں بڑی تبدیلی لائی ان کا کہنا ہے کہ رات گئے پانی کا بہاو بڑھ گیا جس کی وجہ سے وہ گھر سے باغ کی طرف نہیں نکل سکتے تھے کیوں کہ پانی کا بہاو تقریبا 5فٹ تھا اس لئے وہ اپنے بچے اور گھر بچانے میں لگ گئے باغ کی طرف جانا ممکن ہی نہ تھا۔ بارش کے بعد جب باغ گئے تھے وہاں سب کچھ تباہ ہوچکا تھا۔ عبدالفیاض کے 100 درختوں میں سے صرف 10 درخت بچ گئے ہیں۔ جن کی زمین پتھر اور بجری سے بھر چکا ہے۔ وہ اب اس کے بچانے میں اپنے دو بیٹوں کے ہمراہ مصروف ہیں۔ ان کے مطابق اگر بروقت اقدام نہ کرسکا تو باقی ماندہ درخت بھی خشک ہوجائیں گے جس سے میری زندگی اجیرن ہوگی۔ حکومتی سطح پر ان کی کسی قسم کی مدد نہیں کی گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ بچے ہوئے درختوں کیلئے میری مدد کی جائے ورنہ یہ بھی تباہ ہوجائیں گے
محکمہ زراعت کے پلانٹ پروٹیکشن ڈائریکٹر ڈاکٹر عارف شاہ نے اس سلسلے میں بتایا کہ سلوب کی وجہ پشین، قلعہ سیف اللہ اور لورالائی کی نسبت ہنہ میں نقصان کا تخمینہ زیادہ ہے۔ کیوں کہ یہاں پانی کا سلوب ہوتا ہے جس سے پانی کیبہاؤ کا رفتار زیادہ ہوتا ہے۔جس سے پانی زمین کے مٹھی کو ساتھ لیکر بہادیتا ہے۔جو زمین پانی میں بہہ گیا اس کی ریکوری تو ممکن نہیں لیکن پھر بھی زمیندار کو چاہئے کہ درخت کی زمین سے بجری اور پتھر نکال کر اس کو دوبارہ مٹھی سے بھر دے دوسری صورت میں اس مٹھی کو کھاد کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے۔
محکمہ زراعت کے پلانٹ پروٹیکشن ڈائریکٹر ڈاکٹر عارف شاہ کاکڑ نے باغات کی زمین میں ہونیوالی خرابی کا حل کچھ یوں بتایا کہ باغات سے مٹھی کے سمپل لیکر لیبارٹری میں ٹیسٹ کردے تاکہ اندازہ لگایا جاسکے کہ باغ کو کس قدر اور کس خوراک کی زیادہ ضرورت ہے تاکہ وہی خوراک مہیا کیا جاسکے۔ اکثر زمیندار گوبر وغیرہ کے کھاد کا استعمال کرتے ہیں زمیندار کو چاہیے کہ اس کی مقدار میں اضافہ کرے لیکن اس کا ڈی کمپوز (سڑھا) ہونا لازمی ہے تازہ کھاد ڈالنا مزید نقصان دے گا۔ درخت سے بہترین اور زیادہ مقدار مین پھل حاصل کرنے کے لیے سردی، کھاد اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سال سردی کی بھی امید کرسکتے ہیں جس کی اچھے اثرات باغات پر مرتب ہوں گے