کوئٹہ:
عورت فاونڈیشن، یو این وومن، محکمہ ترقی و نسواں بلوچستان، اساس پی کے اور دیگر سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے 25نومبر سے 10دسمبر تک صنفی تشدد کے خلاف فعالیت کے 16دن منائے جارہے ہیں ۔ دنیا کی تمام عورتوں کی تحریکیں ان 16دنوں میں عورتوں پر ہونے والے تشدد اور جبر کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی ہے ۔ فعالیت کے یہ 16دن پوری دنیا میں عورتوں پر تشدد اور جبر کے خلاف جدوجہد کی علامت کے طور پر منائے جاتے ہیں ۔
کوئٹہ پریس کلب میں عورت فاونڈیشن کے اشفاق مینگل، سحر کے میر بہرام لہڑی اور ذلیخا رئیسانی، چینج تھرو امپاورمنٹ کے جعفر خان، محکمہ بہبود و نسواں کے رخسانہ اور سلمیٰ قریشی نے پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کے نمائندوں کو بتا یا: اس سال ہماری یہ کوشش ہو گی کہ گرلز سکول اور کالجز کے طالبعلموں کو زیادہ سے زیادہ ان پروگراموں میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ نئے آنے والے نوجوان نسل کو خواتین کے حقوق کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ آگاہی ملیں ۔
عورت فائونڈیشن ، UN-Women، محکمہ ترقی و نسواں بلوچستان ، ASAS-PK، اور دیگر سول سوسائٹی کی تنظیموں نے خواتین پر تشدد کے خلاف 16دن فعالیت کے حوالے سے مختلف پروگرام تشکیل دیئے ہے۔ بلوچستان میں اس مہم کا آغاز 25نومبر سے کریں گے۔ جو 10دسمبر 2018انسانی حقوق کے عالمی دن پر اختتام پزیر ہو گا۔ اس مہم کے دوران پارلیمنٹیرینز کے ساتھ میٹنگ ، سردار بہادر خان یونیورسٹی میں سیمینار اور واک ، گرلز کالجز میں پینل ڈسکشن کا انعقاد ، مختلف اضلاع کے بوائز اور گرلز سکولوں میں صنفی تشدد کے خلاف پروگرام کا انعقاد شامل ہے۔ مہم کے اختتام پر ایک میگا پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا۔
سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کہا: عورت فائونڈیشن نے بلوچستان میں عورتوں کے خلاف تشدد کے ہونے والے واقعات پر جمع کردہ اعداد و شمار پر مشتمل اپنی سالانہ رپورٹ جنوری تا نومبر 2018کوئٹہ میں جاری کررہی ہے۔ عورتوں کے خلاف تشدد ایک خطرناک حد تک عالمی مظہر کا باعث بن رہا ہے ۔ جس سے بے شمار عورتوں کی عزت و ناموس متاثر ہو رہی ہے۔ تشدد ایک بہت ہی بڑا صنفی امتیاز ، غیر مساویانہ امتیاز اور معاشرے میں نا ہمواری کا بڑھتا ہو ا ذریعہ بن رہا ہے ۔ تشدد کے حوالے سے اعداد و شمار برف پگھلنے کا ایک معمولی ذرہ معلوم ہوتا ہے ۔
رپورٹ مقصد بلوچستان میں عورتوں کے خلاف تشدد کے واقعات کی نشاندہی اور زیادہ معلوماتی اور مددگار ماحول اور سماجی دبائو پیدا کرنا ہے۔ عورتوں کے خلاف تشدد کے واقعات کے اعداد و شمار مستقبل میں بننے والی پالیسی اور قانونی اصلاحات کے سلسلے میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں ، سیاسی جماعتوں اور قانون دانوں کو مصالحتی طریقہ کار ، ترقیاتی پالیسیوں کے فریم ورک اور ادارتی نظام کے تحت عورتوں کے خلاف تشدد کے خاتمہ میں مددگار ثابت ہونگے۔
خبر:کوئٹہ انڈکس/ دین محمد وطن پال